ممبئی، 9؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ملک کے اگلے صدر کے لیے مسلسل آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے نام کی وکالت کر رہی شیوسینا نے آج کہا کہ صدارتی محل میں ہندوتو کا ربڑ اسٹامپ ہونا چاہیے ۔بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی شیوسینا نے کہا کہ ملک کو آج ایسے شخص کی ضرورت ہے جو اس کے مستقبل کو ہندو راشٹرکے طور پر سمت دے سکے اور جو رام مندراور آرٹیکل 370جیسے مسائل کا حل نکال سکے۔شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘میں لکھے گئے ایک اداریہ میں کہا گیاہے کہ ابھی تک سیکولر حکومتوں کے ربڑ اسٹامپ ہی صدارتی محل میں رہے ہیں،لیکن اب رام مندر، یکساں سول کوڈ اور آئین کے آرٹیکل 370جیسے موضوعات کا حل نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ صدر کے عہدے پر کوئی ہندوتو کا ربڑ اسٹامپ بیٹھے۔شیوسینا نے باربار کہا ہے کہ ملک کے اعلی ترین عہدے کے لیے اس کی پسند سنگھ کے سربراہ بھاگوت ہیں۔حالانکہ 66سالہ بھاگوت کہہ چکے ہیں کہ انہیں صدرکے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اگر ضرورت ہوئی تو صدارتی انتخابات 17جولائی کو ہوں گے، ان میں بی جے پی کو اپنی اتحادی شیوسینا سے 18ممبران پارلیمنٹ اور 63ممبران اسمبلی کی حمایت ملنے کی امید ہے۔اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ حساب کے مطابق، صدر کے لیے این ڈی اے کے 23اتحادیوں کے 48فیصد ووٹ ہیں جبکہ یو پی اے کے 17اتحادیوں کے 26فیصد ووٹ ہیں۔گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں بی جے پی سے الگ راستہ اپناتی رہی شیوسینا نے کل کہا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں آزادرخ اپنا سکتی ہے۔گزشتہ صدارتی انتخابات میں شیوسینا نے یو پی اے کے امیدوار پرنب مکھرجی کی حمایت کی تھی،حالانکہ 2012کے اس انتخاب میں بی جے پی نے پی اے سنگما کی حمایت کی تھی۔2007کے صدارتی انتخابات میں بھی شیوسینا نے این ڈی اے کے امیدوار بھیرو ں سنگھ شیخاوت کے بجائے یو پی اے کی پرتیبھا پاٹل کو ووٹ دیا تھا۔صدر پرنب مکھرجی کی تعریف کرتے ہوئے شیوسینا نے لکھا ہے کہ ان کے اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسے لوگوں نے عہدے کے وقار کو برقرار رکھا ہے۔اداریہ کے مطابق،پرنب مکھرجی کانگریسی نظریات سے ہیں لیکن وہ قابل اور مضبوط صدر رہے ہیں، مختلف علاقوں میں ان کا وسیع تجربہ ملک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔